احسان اپنی بیوی نادرہ اور تین بیوں رضواج ، کامران ، صفدر کے ساتھ پہاڑوں پر بنے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا ۔ تیوں بچے بر سر روز گار تھے اس لیے گزر بسرامچی ہورہی تھی ۔ بڑاپیٹار ضواج پہاڑوں کو کاٹ کے سڑک بنانے کاکام کر تا تھاجب کہ دونوں چھوٹے بیٹے پیپ پر ملازمت کرتے تھے ۔ رضواج شادی کے عمر کو پہنچات نادرو پاس کے گاؤں سے کم عمر اور سیدھی سادی
نادیہ کو بیاہ کر لے آئے ۔ شروع کے دنوں میں سب ٹھیک ہی رہا ۔ پھر آہستہ آہستہ نادر ور وایتی ساس بنے گی۔اٹھ یہاں سے چل کے میرے ساتھ کام کر میں تجھے آرام کروانے کو نہیں بیاہ کے لائے جو یوں سار اسار ادرج ٹو پلنگ توڑتی رہتی ہے ۔ شادی کو چو تھادن تھا ۔15 سالہ نادیہ مہندی کے ہتھیلیوں میں جانے کیا کھوچ رہی تھی جب وہ دہاڑتی ہوئی آئی تھی۔نادیہ کے وہم و گمان میں
بھی نہ تھا کہ ساس کارویہ یوں بھی بدل سکتا ہے ۔ وہ کانپتی ہوئیے اس کے پیچھے ہوئی ۔ پھر اس کے بعد سے اس نے بھر پور کشش کیے کہ اپنی ساس کو شکایت کا کوئی موقع نہ دے۔سارا سارا دن جانوروں کی طرح کام میں بنتی رہتی لیکن پھر بھی نادرہ کاغصہ کم نہ ہوتا ۔ رضواج بھی ماں کے سنتا ۔ نادرہ کو نہ جانے کس بات کا غصہ تھا جو دن بدن بڑھتاہی چلا کو جارہا تھا۔اس کی
شکایتوں میں دن بدن اضافہ ہورہاتھا ۔ وہ جو صبح سے رات تک کاموں میں لگی رہتی شام ہوتے ہی ڈر کے مارے کانپنے لگتی کیونکہ میٹر کے آتے ہی ساس مجھوٹی بچی اس کے ایسی شکایتیں لگائے جس پر ر ضواج آگ بگولہ ہوئے اس کے ایسی خبر لیتا کہ جس کے نشان کتے درج تک اپنی داستان سناتے رہتے ۔ایسے ہی بے کیف دنوں میں اس نے پہلی پی کو جنم دیا ۔ اس کے بعد اسے
جینے کے لیے وجہ مل گئی ۔ چپ چاپ تو پہلے بھی دہنتے آرہی تھیاب اس کے طبیعت میں ٹہراؤ آ گیا ۔ اس کے توجہ کا محور اس کی نھی سی بچی بن گئی جس کا نام اس نے بڑے چاؤ سے گھر میں رکھا اتنے مہینوں میں بھی تھے روٹی پکانا نہیں آئی ۔ پتانہیں کیا چیز ہے تو ۔ چل جائے مجھے دوسری روٹی لاکے دے ۔ وہ جو ساس کے سامنے کھانار کھ کے مڑنے ہی گی تھی۔چپ چاپ
روٹی کے ٹرے اٹھاکر کچن کی جانب چل پڑی ۔۔ توبہ تو بہ چالا کی تو دیکھو کیسے کوٹ کوٹ کے بھری ہے ۔ نیک بے بے بنتی پھرتی ہے ۔ میں بول بول کے تھک جاؤں گئے لیکن یہ زبان نہیں کھولے گیے ۔ منحوس ماری جلی روٹی لاکے سامنے رکھ دی جیسے بڑا احسان کر رہی ہے ۔ وہ مارے غصے کے اس کی اچھائی کو بھی برائیے کارنگ دینے لگی ۔ شادی کا چو تھاسال شروع ہواجب اس
دوسری بیٹی کو جنم دیا۔اب کے ساس نے لڑکیوں کے طعنے دینا شروع کر دیے ۔ یہ وہ واحد بات تھی جس پر اسے بہت غصہ آتا۔اپنے بیٹیوں کے خلاف وہ کوئی بات نہ سے پاتی تھی ۔ پھر بھی وہ چپ رہنے کی کو شش کرتی ۔ جانتی تھی شوہر بھی ساس کے ساتھ ہے اس لیے منہ کھولنا بیکار ہے میکے میں بوڑھے ماں باپ کو کچھ بھی تاکر پر یشارہ نہ کر نا چاہتی تھی اس لیے سب خاموشی
سے سہتی چلی آرہی تھی ۔ پھر ماں کے نصیحت بھی یادتمی جو اس کی رخصتی پر کیے تھی کہ بیٹی شادی ہوئے جار ہی ہواب سے وہی تمہاراصلی گھر ہے ۔ ٹیک لڑکیاں وہی ہوتی ہیں جو ڈولی میں سرال جائیں اور مرکے ہی وہاں سے نکلیں۔اس بد نصیب ماں کو کیا معلوم تھا کہ جو وہ کہ رہی ہے وہ بیچ ہو جاۓ گیا ۔ اس کی بیٹی اپنی ماں کے کہے کا لاج رکھے گی اگراسے یہ
معلوم ہو جاتا وہ یہ سب کہنے کا کبھی سوچتی بھی نا ۔ ہو لیس نے کاوہ بھی ایک عام سادرج تھا ۔ سورج مشرق سے نکلا اور مغرب میں ہی غروب ہوا ۔ وہ صبح اٹھی تو تیز بخارمیں بچنک رہی تھی ۔ دونوں بچیاں ابھی تک سورہی تھیں۔اس کے ناشتابنانے کی ہمت نہ ہورہی تھی ۔ دو بار اٹھنے کی ناکام کو شش کیے پھر چپ کیے پڑی رہی ۔ نادرہ نے خوب آواز میں لگائیں پھر اس کے سر
پر پہنچ گئی ۔ کیابات ہے مہارانیے ! آج چاۓ ناشتانہیں ملے گا کیا۔کب سے تیراگھر والا ناشتہ ناشتہ کر رہا ہے لیکن توکان بند کرکے یہاں پڑی ہے۔چل اٹھ جلدی اور جاکے ناشتہ تیار کر ۔ ” اس نے سنگدلی سے کہا۔امی مجھے بڑا تیز بخار ہے۔اٹھا نہیں جا رہا دو تین باراٹھنے کی کو شش کیے لیکن ذرا بھی ہمت نہیں ۔ ہورہی ۔ “ نقاہت اس کی آواز سے بھی واضح
محسوس کی جاسکتی تھی لیکن نادرہ جیسے پتھر دل انسان کے محو کرنے کی بات نہ تھی ۔ زیادہ ڈرامے نہ کر جیسے مجھ پر احسان کر رہی ہو ۔ بڑی آئی پیار جلدی سے اٹھ جاور نہ مجھے اور طریقے بھی آتے ہیں کام کروانے کے سنگدلی کے تمام حدود پار کرتے اس نے یہ بھی نہ دیکھا کہ اس کے لال بیار آنکھوں میں کتنی التجاقی شور سے دونوں بچیاں بھی اٹھ کے رونے لگ گئیں ایک تو
ماں کے ڈرامے ختم نہیں ہوتے اوپر سے یہ پڑیلیں اپناراگ شروع کر دیتی ہیں ۔ اس نے غصے کے مارے بچوں کو دو تھپٹر لگا دیے نادیہ کانپ اٹھی اور بچیوں کو اپنے ساتھ لگالیاشور کی آواز سے نادرہ کے بیٹے اور شوہر بھی آگئے اور نادیہ کو ملامت کرنے لگے مجبورا اسے اٹھناہی پڑا ۔ بڑی مشکلوں سے ناشتا بنا کے سب کو دیا پھر کمرے میں آکے الماری سے بخار کیے دواڈھو نڈنے لگی جو
نہ جانے کب کے پڑی تھی خالی پیٹ ہی پانی سے نکل کے بھوئیے بچیوں کے پاس ہی لیٹ گئی ۔ پھر نہ جانے کب اس کی آنکھ لگی اسے پچھ ہوش نہ رہاحتی کہ بھوکے بچیوں سے بھی غافل ہوئے وہ نیند کی وادی میں اتر گئی۔اسے مد ہوشی میں پڑے پڑے کافے وقت گزر چکا تھاجب مجبوراٹھنائی پڑاپکچھ دیر تو اسے کچھ سمجھ ہی نہ آیا اس کے بال نادرہ نے خوب
مضبوطی سے پکڑ رکھے تھے ساتھ ہی زبان بھی روانی سے چل رہی تھی سمجھنے کی کو شش میں کبھی وہ اسے اور کبھی اپنی اولاد کے طرف دیکھتی جو زمیں پر بھی رو رہی تھیں اس کے دل کو پچھ ہونے لگا ادھر ادھر کیا دیکھ رہی ہے سارا سارا دن یہاں پڑی آرام کرتی رہتی ہے لیکر اب اور نہیں میں بھید کھتی ہوں اب تو کام کیے نہیں کرتی چل دفع ہواور رات کے روٹی کا
وبست کر ہڈ حرام تھے ذرا احساس نہیں کہ ساس صبح کیے گی ہے ۔ تجھے کیا ، تیری بلاسے درج کو بھی میں اکیلی کرتی رہی لیکن تو تواب بھی اٹھنے کو تیار نہیں ۔ ایسی بھی کیاموت پڑ گئی ہے جتنی تیزی سے اس کے زبان چل رہی تھی اس سے زیادہ اس کاہاتھے ۔ نادیہ کاذ ہرج اب شاید مکمل طور پر بیدار ہو چکا تھا ۔ اسے نے اپنے بال ساس سے چھٹرانے چاہے۔امی میری ذراہمت
کہاں سے آگئی ۔ پچھلے چار سالوں میں اس نے کبھی اف تک نہ کہااور آج تو حد ہی ہوئے کہ اس نے نادرہ کے منہ پر صاف انکار کر دیا ۔ نادرہ سے یہ بات بر داشت نہ ہورہی تھی ۔ میرے آگے خوب کھولنے لگا ۔ وہ باہر صحن میں کچھ ڈھو نڈ نے گی ۔ نادیہ چلاتی ہے مظہر رک میں تجھے ابھی بتاتی ہوں اس کاخوف سے کانپنے لگی اسے کا دل چاہا کہ وہ کہیں چپ جاۓ لیکر ایسابھلا کہاں ممکن تھا نادر ہ جب واپس آئی تواس کے ہاتھ میں خوب موٹاساؤنڈاد پکچھ کے نادیہ سرکے کمرے میں بھاگ گئی ۔ ’ ’ ابو مجھے بچالیں دیکھیں ای مجھے مارنے آرہی ہیں آپ انہیں سمجھائیں ناں مجھے معاف کر دیں ۔ میں ساراکام کروں گے لیکرج وہ مجھے معاف کر دیں وہ سرکے پیروں میں بیٹھی منتیں کررہی تھی میں کیا کہوں یہ تیرا اور تیری ساس کامسئلہ ہے تو
احسان نے بے حسی سے کہا اور کمرے سے باہر نکل گیا ۔ یہ دیکھے بغیر کہ نادیہ کے آ نسوزمیں میں جذب ہورہ تھے۔اس وقت نادر ونے اند رآکے پوری قوت سے ڈنڈا اس کے سر پر دے مار اوار اتاکاری تھا کہ وہ گرتے ہی الٹی کرنے لگی ۔ نادرہ کے سر پر بھوت سوار تھاد و بارہ دار کیاب وہ بے ہوش ہو گئی ۔ مجھ سے زبان چلاتی ہے اب آیامزہ وہ واپس ڑی ۔ بہو کو ایسی حالت میں پڑے
کافی دیر ہو گئی جب احسان کو خوف نے گھیر لیا ۔ دیکھ جائے کہیں مر مراتو نہیں گئی مر جاۓ میری بلاسے ۔ “ اس نے بول تود یالیکن دل میں خوف نے ڈیراڈال دیا۔اتنے میں رضوان بھی آگیامار ضواب بھی اب اس نے اپنے مظلومت اور بہوئی زبان درازی کے وہ قصے سناۓ کہ اسے بھی ماں کایہ قدم جائز لگا ۔ پیٹادیکھ ذراکہیں مر تونہیں گئی ۔ ‘ ‘ اب نادرہ کو صیح معنوں
میں خوف نے گھیر لیا ۔ مرنے دے اماں سے ہی اس قابل۔کہتے ہوئے وہ نادیہ کے پاس چلا آیا جہاں دونوں بچیاں ماں کے پاس بیٹھی رورہی تھیں۔امان اسے کاسانس رک رک کے چل رہا ہے بیٹے کی بات پر دونوں میاں بیوی کے اوسان خطا ہو گئے ۔ رات کی تاریکی بڑھ رہی تھی جب انہوں نے مل کے ایک منصوبہ بنایا ۔ سفاک منصوبہ 12 بجے ہی انہوں نے بے ہوش نادیہ کو بوری
میں بند کیا اور دور لے جاکے پہاڑیوں کے اس پار چھینک آۓ کہ صبح تک اس کا نام و نشارج مٹ جاۓ گا ۔ اس کو وہاں پیک کے تیل چھٹرک کے آگ لگادی تا کہ شناخت ہی نہ ہوسے لیکرج اللہ کو شاید کچھ اور ہی منظور قابار شوں کے در کے تھے وہ ظالم آگ لگا کے تھوڑا آگے ہی پہنچے کہ بارش نے سب طرف جل تقل کر ڈالا ٹھنڈک ایسی کہ بندے کے دانت بجنے لگتے۔اتنی شدید
سردی میں بھی اس کے نبض چل رہی تھی ۔ خواہ آہستہ ہی سہی ایسے موسم میں وہ بے سروسامان تین درج اور تین راتیں پہاڑوں میں پڑی رہی نادرہ اور بیوں نے سمجھا کہ اس کا نام ونشارج مٹا آئے ۔ پریشان تھے کہ آخر بیٹی کوڈھو نڈمیں کہاں ۔ پولیس کی مد دوسری طرف یہ خبر پھیلادی کہ ساس سے جھگڑ کر گھر سے بھاگ گئی ۔ اس کے ماں باپ بے چارے سخنلی گئی لیکن
اسے نہ ملنا تھانہ ملی نادرہ نے بہو کے کردار پر خوب ہی کیچڑاچھالا جائے کس آشناکے ساتھ بھاگ گئی پورے گاؤں میں خوب تھو تھو ہوئی ۔ تیسرے دن اس کی روح جسم سے پرواز کر گئی۔خدائے کرنے پچھ ایسی ہوئی وہ جگہ جہاں کوئی بھی بھولے سے نہ جاتا۔گاؤں کا ایک لڑکا اپنے جانوروں کو لے کر اس واقعے کے گیار ہومیں روز وہاں نکل گیا ۔ جب پاس پہنچاتو خوف کے مارے
کانپ اٹھاکوئی وجود جواوندھاپڑاتھا ۔ کہیں کہیں سے کپڑے جلے ہوئے اور گوشت بھی غائب تھا ۔ پاس آکے غور کرنے پر اسے مجر مجری آ گئی ۔ بھاگتا ہواواپس پہنچا اور گاؤں کے کچھ بندوں اور پولیس کو لے آ یاساتھ نادیہ کا بوڑھا باپ بھی تھاس نے بیٹی کی جب یہ حالت دیکھی تو غم کے
مارے پاگل ہونے لگا ۔ اپنے کندھوں سے چادر اتار کے می کے وجود کو ڈھانپاجواتنے روز گزرنے کے باوجود بھیشناخت کے قابل قلہ جب یہ خبر گاؤں پنچے تو ایک کہرام مچ گیا ۔ نادیہ کے ساس سر ، شوہر اور دہوروں کو گرفتار کرکے تفتیش کرنے پر ساری بات سامنے آ گئی ۔ نادر وجو بیٹیوں کے ہاتھوں بہو کو جلا کے یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ اب کوئی اس کے گناہ پر اسے کچھ نہیں کہہ پائے
گا لیکن وہ یہ بات بھولیے بیٹھی تھی کہ اوپر والاجب انصاف دیناچا ہے تولاکھ پردوں میں چھپی سچائی کو بھی سامنے لے ہی آتا ہے ۔ نادر اور اس کے گھر والے اب جیل میں صرف اور صرف ایک انسارج کے غصے کی وجہ سے دونوں معصوم کلیاں بچپے کے سہانے دور میں ہی اتنی بڑی محروی سے دوچار ہوئی ہیں ۔ تفصیال میں خواہ کتاہی پیاراپنی سزا کے منتظر ہیں لیکن اس سب
میں ان دو معصوم بچیوں کا کیا قصور تھا جن کی بے گناہ ماں کوارج سے دور کر دیا گیا۔اب نام نہاد باپ سے بھی محروم ہوئیے بیٹھی ہیں ۔ کیوں نہ ملے لیکن وہ ماں کہاں سے لائیں گے جوان کیے ذرای تکلیف پر تڑپ اٹھتی تھی ۔ اس لیے اسلام میں غصے کو حرام قرار دیا گیا ہے کہ ایک یہ جز بہ دوسری بہت کی برائیوں کو جنم دیتا ہے اگر نادرہ نے بھی اس وقت اپنے غصے کو قابومیں
آ کر لیا ہو تاتو یہ سب کبھی بھی نہ ہو تا کیوں تاتویہ ۔ آپ کا کیا خیال ہیں
اپنا کمنٹ کریں